(چوآ سیدن شاہ )چوآ فرنٹ فلاحی تنظیم کے زیر اہتمام قصور میں ہونے والے ظلم و بربریت کے خلاف پرامن احتجاجی ریلی نکالی گئی ۔سول سوسائٹی و سماجی و صحافتی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کرکے زمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیا پولیس و دیگر انتظامیہ کے تعاون پر مشکور ہیں ۔ اس ریلی سے قاری ثقلین صاحب ۔ حاجی ملک یوسف صاحب ۔ ملک اصغر صدر چوآ فرنٹ ۔منیر احمد بانی تنظیم اور دیگر مقررین نے خطاب کیا ۔ حکومت وقت سے مطالبہ کیا گیا کہ قاتلوں کو بے نقاب کرتے ہوئے فوری گرفتار کیا جائے اور جلد از جلد سرعام عبرتناک سزا دیتے ہوئے انجام تک پہنچایا جائے ۔ اس کے ساتھ ہی معاشرتی بیداری اور ہماری اخلاقی تربیت و ذمہ داریوں پر بھی گفتگو کی گئی ۔ احتجاج مہذب معاشرے میں عوام کا جمہوری حق ہے ۔ سول سوسائٹی کی بیداری اور معاشرتئ و اخلاقی جرائم کے خلاف متحرک ہونا خوش آئند ہے ۔جہاں شر ہے، وہاں خَیر بھی ہے، جہاں چند درندے ہیں، وہاں میں اور آپ بھی ہیں، ڈھارس بندھائیئے۔ اور حوصلہ افزائی کیجئے ان سب کی، جنہوں نے اس ظلم کےخلاف آواز اُٹھائی اور ،اپنی تئیں پُوری کوشش کی کہ، اس ظلم کی مذمت اور مُعاشرے کو فعال کیا جائے۔اور اگر مجمُوعی طور پر دیکھیں تو، صُورتِ حال،حوصلہ افزاء بھی ہے۔وہ اس لیئے کہ، پاکستان اور دُنیا بھر میں، جہاں جہاں پاکستانی ہیں، سب نے اپنے اپنے ،مقام و معیار اور حالات کے مطابق ،اس کی بھرپُور مذمت کی اور حالات کو بدلنے کی فِکر کو اجاگر کیا ہے۔ ایسی سوچ ہی تبدیلیوں کا پیشِ خیمہ بنتی ہیں اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔الله ہمیں استقامت دے ! آمین ثم آمین۔ دعاگو شہزاد حیدر گجر نمبردار چوآ سیدن شاہ ... See MoreSee Less

عفت وعصمت کے لٹیرے اور ہم عوام ✍️از قلم شہزاد حیدر گجر
باعث فخر ہوا ہے رہزن و قاتل ہونا
گھر اجڑتے تھے اس الزام سے پہلے پہلے
قصور میں سات سالہ بچی کو اغوا کرکے ریپ کرنے کے بعد قتل کر دیا گیا۔۔۔ بندہ کوئی الفاظ کیسے لکھ پائے اس ظلم و بر بریت پر، ہمارے معاشرے میں ایسے واقعات کا ایک تسلسل سے وقوع پذیر ہونا اس معاشرے کی اخلاقی دینی اور سماجی حیثیت پر ایک سوالیہ نشان ہے، پاکستان کی تاریخ میں ایک اور اداس دن ۔بہر کیف خادم اعلی صاحب کے ہیلی کاپٹر کا تیل پانی چیک کیا جائے ایک اور دورے کا نادر موقع بن گیا ہے ۔ 5 لاکھ روپے ۔ چند سلفیاں ۔ دو چار معطلیاں ۔ مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے دعوے اور پھر خاموشی ریاست کی اتنی ہی ذمہ داری بنتی ہے ہور کم وی تے کرنے ہوندن ۔قصور میں معصوم بچی کے ساتھ زیادتی کے بعد قتل کی واردات ۔ جب تک ایسے واقعات میں ملوث درندوں کو سرعام عبرت ناک سزا نہ دی جائے گی ایسے واقعات کا سدباب ناممکن ہے۔*(خدا کے لئے اپنے بچوں کو جنسی تعلیم دیں اور ایسے حالات میں کیسے بچا جائے مکمل رہنمائی کریں۔ہم شرم میں بچوں کو کچھ نہیں بتاتے جس سے معصوم پھول ان درندوں کی باتوں میں آجاتے ہیں)۔ ایک کے بعد دُوسرا۔۔*نو سالہ طیبہ یاد ہے؟چھے سالہ طوبیٰ یاد ہو..؟ آٹھ سالہ عمران بھی یاد نہیں..؟ پھر ہم سات سالہ زینب کو کہاں یاد رکھو گے کہاں انصاف دلاؤ گے.. ہم جھوٹے لوگ.. بس اب ماتم کےلیے اگلے کسی ایسے واقعے کا انتظار کرو..! کون سمجھے ؟کون محسُوس کرے؟کون عدل کرے ؟کون انصاف کرے؟کون درد بانٹے؟ کون راستہ روکے؟کون نشاندہی کرے ؟ کون پہلا قطرہ بنے ؟ کون سمجھے یہ میری بیٹی ہے؟کون سوچے یہ پاکستان کی بیٹی ہے؟کون سوچے یہ انسانیت کی تذلیل ہے؟آج شام تک بُھول جائیں گے۔ایسےسانحات پہ،ہمارےوکلاء،اساتذہ اور،انسانی حقوق کی تنظیمیں کیوں ہڑتال نہیں کرتی؟ پرامن،قلم چھوڑہڑتال،تاوقتیکہ،مجرموں کوسزا نہ ملے۔اگر والدین ، مُعاشرہ، اور سماجی حیثیت کے حامل شہری کم از کم،ظالم کا سوشل بائیکاٹ ہی کریں،توبھی اک بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔یہاں تو ظالموں کو ہار پہنائے جاتے ہیں قاتلوں کا استقبال کیا جاتا ہے ۔ انسان سے نفرت نہ سہی جرم سے نفرت تو بنتی ہے جِتناکُہرام سوشل میڈیا پہ ہے،اس کا سوواں حصہ بھی عملاً ہو تو،حالات مختلف ہُوں۔مگر ہمیں احتجاج کرنے کے طریقے بھی سیکھنے کی ضرورت ہے۔ہم احتجاج کرتے ہُوئے بھی اپنا،مالی، جانی، اور سرکاری نقصان کرتے ہیں،اور حدود سے تجاوز کرتے ہیں۔ مربُوط اورمنظّم اسلوب نہیں اپناتے۔حضور یہ وہ علاقے ہیں، جہاں سے پِھر بھی کسی حد تک، آواز نِکل آتی ہے، ظلم کم از کم ،منظرِ عام پہ لایا جاتا ہے،لیکن اس ریاست کی جاگیروں میں رہنے والوں کی تو، آواز بھی نہیں نکلنے دی جاتی،مزارعوں، ہاریوں اور دیگر بے بس لاچاروں کی بیٹیوں کی تقدیروں کے فیصلے بھی،وڈیرہ سائیں ، اس کے چہیتے یا وڈیرے کی اولادیں کرتی ہیں۔
مجمُوعی طور پہ، جو کیس رپورٹ ہیں، یہ کُل کا عُشرِ عشیر بھی نہیں ہیں۔زبانیں کاٹ دینے تک کی دھمکیاں ہوتی ہیں، اور پِھر ، لوگ لا پتہ بھی ہو جاتے ہیں۔ جو کچھ کیمرہ دکھاتا ہے۔ یہ سارا کُچھ نہیں ہے۔تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ ملک گیر مہم چلائیں کہ آئے دن معصوم بچوں کے ساتھ زیادتی کے بعد بہیمانہ انداز میں قتل کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور انہیں سارے لوگوں کے سامنے سنگسار کیا جائے۔یا اذیت ناک حالت میں نشان عبرت بنا دیا جائے تاکہ کسی کو بھی ایسا خیال بھی آئے تو اس کی روح کانپ جائے۔جاگو میرے دوستو ہمارے بچے اسی طرح کی بربریت کے لئے نہیں۔تمام افراد کا معاشرتی فرض ہے کہ اپنے آپ کو اس ملک گیر احتجاج کا حصہ بنائیں نہیں تو ہمارے بچے اسی طرح مرتے رہیں گے
سات سالہ بچی کا اغوا،ریپ ، قتل ، اخلاقی گراوٹ ،معاشرتی بے حسی ،
جزا سزا پر عمل درآمد نہ ہونا ،قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نااہلی ،
خادم اعلی کا نوٹس،ہیلی کاپٹر کی چیکنگ ،ہنگامی دورہ ،5 لاکھ روپے چند سلفیاں، افسران کی سرزنش و معطلی ، قاتلوں کو عبرت ناک سزا تک چین سے نہ بیٹھنے کا عزم ،فوجداری قانون کے سقم اور انصاف کا حصول ناممکن ،کل اس وقوعہ کو خاندانی دشمنی یا زمین جائیداد کے تنازعے سے جوڑ کر گلو خلاصی کر لی جائے گی ،اور ہم کسی اور ایشو پر من ہلکا کرنے لگ جائیں گے ،ایہ کہیڑا پہلی وار ہویا ۔۔۔زینب بیٹا ہم شرمندہ ہیں
✍️حاصل تحریر ،؛👈 ہمیں ضرورت ہے،مربوط فیملی سسٹم کی،اک دوسرے سے باخبر رہنےکی،جرم کی سرکُوبی کےلیے ،زندہ ضمیری کی،اپنی اولادوں کی انسانی بنیادوں پہ تربیت کی۔ اردگرد کے حالات پر نظر رکھنے کی ۔ مظلوم کا ساتھ دینے اور ظالم کا معاشی بایئکاٹ کرنے کی ۔ حکمرانوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے باز پرس کے ساتھ اپنی اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی تب جاکر یہ معاشرہ امن کا گہوارہ بن سکے گا
واہی نوں کھاونڑ واڑ آ گئی اے مندری کھا گئی اے نگ
پھلاں کنڈے زخمی کیتے روں دے ہتھ وچ اگ
کونڑ نبھاوے لجاں ایتھے کونڑ وٹاوئے پگ
چولہیاں اتے رزق کھوا کے لوکی لیندن نے ٹھگ
#JusticForZainab#
... See MoreSee Less

View on Facebook

سیاست ۔۔۔۔۔؟؟؟؟
اکثر محفلوں میں بحث مباحثہ کے دوران جب میں نوجوانوں کو موجودہ سیاسی و سماجی نظام سے دلبرداشتہ و نالاں دیکھتا ہوں تو ان سے کہتا ہوں کہ آپ عملی سیاست میں حصہ کیوں نہیں لیتے تو جواب ملتا ہے کہ چھڈو جی سیاست چوں اساں کی لینڑاں ایہ ساڈے وس دا کم نئیں ایدے وچ سوائے گندگی دے ہور کجھ وی نئیں جب میں ان دوستوں کی یہ باتیں سنتا ہوں تو انتہائی رنجیدہ ہوتا ہوں کہ سیاست کو ہم نے اجتماعی طور پر کتنا پراگندہ کردیا ہے کہ عام آدمی اس سے کوسوں دور بھاگتا ہے ، میرے بھائیوں سیاست بری چیز نہیں ہے اگر اصول کے ساتھ سیاست کی جائے تو یہ چادر اور چار دیواری کا تقدس ہے ، ماوں بہنوں بیٹیوں کی عزت ہے یہ باپ دادا کی پگڑی کی محافظ ہے ، یہ سماج میں آپ کے جائز حقوق کی پہرہ دار ہے ،یہ معاشرے میں بنیادی ضرورتوں کی فراہمی میں مددگار ثابت ہوتی ہے ،لیکن ہمارے معاشرے میں سیاست ظلم و جبر دھونس دھاندلی بدمعاشی سینہ زوری کی علامت سمجھی جاتی ہے اس رویے کو ہم سب نے مل کر درست کرنا ہے ، اسلام میں سیاست اس فعل کو کہتے ہیں جس کے انجام دینے سے لوگ اصلاح سے قریب اور فساد سے دورہوجائیں۔ اہل مغرب فن حکومت کو سیاست کہتے ہیں۔ امور مملکت کا نظم ونسق برقرار رکھنے والوں کوسیاستدان کہا جاتا ہےلغت میں سیاست کے معنی ٰ: حکومت چلانا اور لوگوں کی امر و نہی کے ذریعہ اصلاح کرنا ہے۔اصطلاح میں : فن حکومت اور لوگوں کو اصلاح سے قریب اور فساد سے دور رکھنے کو سیاست کہتے ہیں۔قرآن میں سیاست کے معنی ٰ : حاکم کا لوگوں کے درمیان میں حق کے ساتھ فیصلہ کرنا، معاشرے کو ظلم و ستم سے نجات دینا ، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنا اور رشوت وغیرہ کو ممنوع قرار دینا ہے ۔
حدیث میں سیاست کے معنی : عدل و انصاف اور تعلیم و تربیت کے ہیں۔علمأ کی نظر میں :رسول اللہ ﷺ اور خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سیرت و روش ،استعمار سے جنگ ،مفاصد سے روکنا ،نصیحت کرنا سیاست ہے۔*فلاسفہ کی نظر میں ،فلاسفہ کے نزدیک فن حکومت، اجتماعی زندگی کا سلیقہ،صحیح اخلاق کی ترویج وغیرہ سیاست ہے۔*سیاست ایک ایسا عمل ہے جس سے لوگوں کی جماعتیں تصفیہ کرتی ہیں. باالفاظِ دیگر، سیاست ایک طریقۂ کار ہے جس کے ذریعے عوامی حلقوں کے مابین مسائل پر بحث یا کارروائی ہوتی ہے اور ریاستی فیصلے عوامی رائے عامہ کی روشنی میں لئے جاتے ہیں۔سیاست کئی طرح کی ہو سکتی ہے، مثال کے طور پر:*اقتدار کے حصول کے لئے*حقوق کے حصول کے لئے*مذہبی اقدار کے تحفظ کے لئے*جمہوری روایات کے تحفظ کے لئے*ذاتی مفادات کے تحفظ کے لئے ۔پاکستان کی سیاست عرصہ دراز سے فوجی آمریت کے ہاتھوں میں رہی ہے۔ جمہوری دور بھی سیاست سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے کھیل کا نام سمجھی جاتی ہے جس میں غریب صرف نعرے بازی اور ووٹ ڈالنے کی حد تک شریک ہوتا ہے۔ کسی شریف آدمی کا سیاست میں حصہ لینا انوکھی بات سمجھی جاتی ہے۔میں آپ سے کہتا ہوں کہ یار آپ لعن طعن کرنے میں تف اڑانے میں سب سے آگے ہوتے ہو لیکن جب اس معاشرے کی درستگی کی بات آئے تو آپ کنی کتراتے ہو جب آپ جیسے پڑھے لکھے باشعور اور درد مند لوگ اس سیاست میں دلچسپی نہیں لیں گے تو معاشرہ کیسے درست ہوگا پھر دوسری جانب سرمایہ داروں ،مفاد پرستوں ،اقربا پروروں ،کمیشن خوروں ،ناجائز فروشوں کی تو چاندی ہو جاتی ہے جب آپ جیسے باشعور لوگ اپنی ذمہ داریوں سے صرف نظر کرتے ہیں کسی دانشور کے بقول جب آپ سیاست کا چلن چھوڑ دیں گے تو آپ سے کم تر (معاشرے کے ناپسندیدہ ) لوگ اٹھ کر آپ پر حکومت کرنے لگیں گے ، خالی کُڑھنے اور دل جلانے سے بات نہیں بنے گی آگے بڑھو اور معاشرے کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرو تاکہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو بہتر مستقبل اور محفوظ معاشرہ دے کر جائیں جہاں عوام کے بنیادی حقوق محفوظ ہوں جہاں چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال نہ ہو،جہاں غریب کی عزت محفوظ ہو ، مظلوم کی پشت پناہی اور ظالم کا ہاتھ روکنا فرض سمجھا جائے ،جہاں پگڑی اچھال مہم کی حوصلہ شکنی ہو ،یہ سب تب ممکن ہو گا جب نوجوان نسل اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے گی اور موثر کردار ادا کرنے کی جدوجہد کرے گی ، سوشل میڈیا پر دل کی بھڑاس نکالتے رہنے سے من تو ہلکا ہوسکتا ہے من کی مراد نہیں مل سکتی ،اگر خود کجھ نہوہ کر سکدے تے وت سیاست آں گندا آکھنڑاں چھوڑ دئیو ایہ تاں گندی اے جو تہاڈے جہے صاف لوگ اس توں دور اہن ✍️از قلم شہزاد حیدر گجر نمبردار چوآسیدن شاہ
... See MoreSee Less

View on Facebook

Choanews added 3 new photos.

ڈاکٹر شیر باز چوہدری ایم ایس مائینزلیبر ویلفیئر ہسپتال چوآسیدن شاہ تعینات ہوگئے یقینا ڈاکٹر شیر باز صاحب اس کلیدی عہدے پر تعینات ہوکر دُکھی انسانیت کی بھرپور خدمت کا مشن جاری رکھیں گے۔ اس کے ساتھ جناب ڈاکٹر مختار احمد مرزا صاحب ایم ایس اپنے عہدے سے سبکدوش ہوگئے ڈاکٹر مختار صاحب نے اپنی سروس کا ایک بڑا عرصہ چوآسیدن شاہ میں دُکھی انسانیت کی خدمت میں گزارا ہے ،علاقہ چوآسیدن شاہ کے عوام ڈاکٹر مختار صاحب کی خدمات ہمیشہ یاد رکھے گی۔معروف کاروباری شخصیت ہارون غنی چیمہ صاحب کی کاوشوں سے مائنز اسپتال کی صورتحال انتہائی تسلی بخش حیثیت اختیار کر چکی ہے
... See MoreSee Less

View on Facebook

چوآ سیدن شاہ 4 جوان سال بچوں کی گمشدگی کے وقوعے کا ڈراپ سین . گھر سے بھاگے ہوئے بچے منڈی بہاؤالدین سے مل گئے منڈی بہاؤالدین پولیس کی اچھی کوشش۔بچے گھر واپس پہنچ گئے ... See MoreSee Less

View on Facebook

پیغام مفید عام برائے مفاد عامہ ... See MoreSee Less

Choanews added 7 new photos.

میونسپل کمیٹی چکوال کی جانب سے ٹیکسوں میں کیا گیا اضافہ عوامی احتجاج کی وجہ سے واپس لے لیا گیا ۔ چوآ سیدن شاہ کی عوام کی نظریں چوآسیدن شاہ کے منتخب نمائندوں پر لگی ہوئی ہیں
... See MoreSee Less

View on Facebook

بدلتی قدریں۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر راجہ ریاض الحق جنجوعہ
پیشکش : شبیر ملک
رواداری، حسن اخلاق اور برداشت برصغیر کے لوگو ں کا ورثہ تھا اور انتہائی خوبصورت ورثہ تھا، جس کی ہمارے معاشرے نے صدیوں آبیاری کر کے اسے پروان چڑھایاتھا لیکن صد حیف کہ اب یہ تمام مثبت معاشرتی ورثے سے ہاتھ دھو رہے ہیں نئی نسل جو بزہم خود اپنے آپ کو تعلیم یافتہ قرار دیتی ہے اس میں یہ خوبیاں دم توڑ رہی ہیں، عدم برداشت اور دوسروں کی رائے کو غلط سمجھ کر اپنی رائے کو مبنی بر حق سمجھنا عام وطیرہ ہے۔ سوشل میڈیا پر آپ نظر ڈالیں، سیاسی مخالفین یا مذہبی فرقے کی بنیاد پر ننگی، فحش گالیاں، مستورات یا ذاتی افعال کو بھی انتہائی قبیح اور واہیات طریقے سے نشانہ بنانا بے پردگی کرنا، ایک عام سی بات ہو گئی ہے، عدم برداشت کی تمام حدودوقیود کو پھلانگ کر جانا عادت بن گئی ہے اور اکثریت اس میں خوش ہوتی ہے، یہ سوچے بغیر کہ ہم نے کیا کھو دیا ہے، گنوا دیا ہے، سیرت کا تمام حسن گہنا گیا ہے ہو سکتا ہے کہ یہ تحریر اکثر لوگوں کے سر سے گزر جائے لیکن یاد رہے تو قومی آزادی صرف پیسے یا اسلحہ کے زور پر دائمی برقرار نہیں رہ سکتی، قوموں کی مضبوطی اور طاقت کے لئے سرمایہ اس کی اخلاقی اور معاشرتی قدریں ہی کرتی ہیں، یہ اخلاقی قدریں اس قدر مضبوط ہوتی ہیں کہ دشمن پوری قوت سے بھی اس مضبوط سد سکندری کو توڑ نہیں سکتا، آخر زیر ہو جاتا ہے۔
ہلاکو نے تمام امت مسلمہ کو روند ڈالا تھا، پوری اسلامی تہذیب اور ثقافت کو ملیا میٹ کر کے رکھ دیا تھا، مسلمان خس و خاشاک کےڈھیر کی ماند تھے لیکن اس مفتوح و شکست خوردہ قوم نے محض اپنے کردار سے اس ظالم، متکبر اور جارح قوم کو شکست فاش دی اور ان کاہتھیار یہی اخلاقی ورثہ تھا، بقول علامہ اقبال کعبے کو پاسباں مل گئے صنم خانے سے یہ تاریخ کا سبق ہے اور جو قومیں تاریخ سے سبق نہیں لیتی وہ مٹ جاتی ہیں، رومی، ایران، سپارٹا کی تہذیبوں نے جب اپنی معاشرتی قدروں کو چھوڑا تو تباہی ان کا مقدر بنی، صفحہ ہستی پر چندکھنڈرات یا تاریخ کے چند اوراق ہی ان کے حصے میں آئے اور ہم پھر ان تباہ شدہ قوموں کی پیروی کیوں کر رہے ہیں۔ ہمارے اسلاف نے اپنی عملی زندگی میں بے پناہ قربانیاں دے کر ہمارے لئے جو قیمتی معاشرتی ورثہ چھوڑا ہے اس سے دست کش کیوں ہو رہے ہیں، چھوٹوں کے لئے شفقت اور احترام اور دوسروں کی رائے کو فائق نہ سمجھنا گفتگو میں لفظوں کے چناؤ میں بے حد بے احتیا طی، ہمارے مزاج کا خاصہ بن گیا ہے،ذرا سی بات پر حد سے بڑھ جانا، سیاسی مخالفت میں انتہائی گھناونے، اخلاق سے گرئے ہوئے ریمارکس یہ ہماری شخصیت کا عکس ہے، اور یہ عکس کتنا ڈراونا بے سود اور بھیانک ہے، جس کا ہمیں اندازہ ہی نہیں۔ الفاظ اور خیالات اصل میں اس بندے کا تمام شجرہ نسب ہمارے سامنے اس کی اصلیت اور ذہنی سوچ کو اس طرح عیاں کر دیتے ہیں جیسے سورج کی روشنی میں تمام دنیا۔
بد قسمتی سے آج کل زیادہ نو دو لتئے ہر افق پر چھائے نظر آتے ہیں، جن کے بیک گراونڈ میں حسرتیں، ناکام آرزوئیں اور خواہشات کا سمندر تو تھا لیکن تہذیب و تمدن اور شائستہ اطوار کی تربیت کا دوردور تک وجود ہی نہیں تھا۔ اس ایک کڑی کا نہ ہونا تمام خرابیوں کی جڑ ہے ، خدارا اس ثقافتی دولت کو ضائع نہ کریں، اپنی اصلی تہذیب کا عکس بن کر معاشرہ کو وہ دیں جو آپ کے پرکھوں اور بزرگوں نے صدیوں سنبھال کر سینے سے لگا کر رکھا۔ جس کی بدولت احساس اور محبت کی دولت کے دریا بہتے تھے۔ میڈیا گفتگو اور بحث میں شائستہ الفاظ کا چناؤ کریں، دل شکنی والے الفاظ و خیالات سے اجتناب کریں، بحث دلیل سے کریں گالیوں سے نہیں۔
... See MoreSee Less

View on Facebook

زندہ دلان چکوال کا ایک منفرد اعزاز اہلیان چکوال کو مبارک
دبئی متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی قابل ستائش صحت مندانہ سپورٹس سرگرمیوں کے انعقاد پر حکمران دبئی شیخ محمد بن راشد ال مکتوم اور حکومت دبئی کی ہدایت پر خدمات کے اعتراف کے لیے اعزازی تقریب منعقد کی گئی۔جس میں پاکستانی کمیونٹی کی ایک بڑی تعداد موجود تھی ۔ مختلف شعبوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے افراد کو اعزازات سے نوازا گیا اس شاندار تقریب میں زندہ دلان چکوال (چکوال کلب )کی نمائندگی چوہدری نثار زیدی چکرال۔ شہزاد حیدر گجر نمبردار چوآ سیدن شاہ سید باقر شاہ منوال نے کی ۔اعزازی سرٹفکیٹ اور تمغہ حسن کارکردگی چوہدری نثار چکرال نے وصول کیے ۔تقریب میں زندہ دلان چکوال کی زندہ دلی اور ثقافت و صحت مندانہ سرگرمیوں سے لگاو کو خوب سراہا گیا۔ چوآ نیوز ٹیم کی جانب سے دنیا بھر میں بسنے والے چکوالیوں (بالخصوص چکوال کلب کے ارکان) چوہدری بشارت چک بھون ۔ امجد گجر بھون ۔سید ساجد شاہ بلھے بالا ۔حاجی اظہر منڈے ۔چوہدری فاروق منوال ۔چوہدری نثار شرطہ مہرو۔چوہدری نوید کریم آڑہ گجراں۔ چوہدری ساجد جبیر پور ۔ملک مظہر جہلم ۔ملک عارف تترال ۔مرزا عامر سرگودھا ۔حاجی جاوید ڈھکو ۔ملک اجمل نوابی چوہدری ممتاز نوید چکرال ۔چوہدری کامران ۔ملک فیصل ۔ چوہدری محمود ۔ چودھری جمشید بہکڑی ۔ چوہدری تصور گجر بھون۔ چوہدری شیراز ھڈالہ۔فاروق وڑائچ ۔ ڈاکٹر محبوب۔چوہدری اسد چک نارنگ ۔ چوہدری طارق ترکوال۔ چوہدری پرویز کھنوال اور جملہ اراکین کو چکوال کا نام سربلند رکھنے پر مبارک باد پیش کی جاتی ہے
... See MoreSee Less

Choanews added a new photo. ... See MoreSee Less

View on Facebook