غیرت کے نام پر قتل یا بے غیرتی کی انتہا،،،تحریر ابو بلال حیدر
کیا اکیلی قندیل بلوچ بے حیائی کی زمہ دار ہے ؟؟؟
اولاد کی پرورش کے لیے اسلامی ماحول کے ساتھ رزق حلال بھی انتہائی اہم جزو ہے لقمہ حرام کھلا کر اچھائی کی امید رکھنا عبث ہے اولاد کی تربیت میں سب سے زیادہ ہاتھ ماں…اسکے بعد اسکے باپ کا ہوتا ہے….جس لڑکی کو حیا ..بے حیائی کے معنی ہی نہ سکهائے گئے ہوں جس کی تربیت ہی ٹهیک نہ کی گئ ہو…تو قصور وار لڑکی سے کہیں زیادہ ماں اور باپ ہوتے ہیں……جب اس کی مرضی کے برخلاف اس کی شادی کردی گئی اس کے جذبات کو قتل کردیا گیا اس وقت ان کی غیرت کہاں تھی اگر اس وقت قتیل کے عزیز و اقارب دانشمندی کا مظاہرہ کرتے تو شاید وہ اس راستے پر نہ نکلتی ،،جب قتیل ماڈلنگ سے لاکھوں کما کر ان کو عیاشی کرا رہی تھی تب غیرت کہاں تھی
کاش کہ قندیل کے بھائی کو قندیل کا پہلا قدم غلط رکهنے سے غیرت آئی ہوتی تو آج قندیل ایسی موت نہ مرتی…..کاش…اسکی ماں نے اسے اچھائی …برائی کی تمیز سکھائ ہوتی تو آج وہ ایسے نہ مرتی..
میں اسے بے غیرتی سے تعبیر کروں گا کیونکہ قندیل کی حقیقت آشکار ہونے پر اس کی بھائی نے یہ قدم محض خود کو غیرت مند ثابت کرنے کے لیے اٹھایا ہے جب تک وہ متنازعہ معاملات کی انتہا پر نہ پہنچی تھی تب تک سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا اب چونکہ معاشرے پر اس خاندان کی در پردہ اصل حقیقت عیاں ہوگئی تھی لہذا انہوں نے اس کا قصہ تمام کرنا مناسب سمجھا
دین سے دوری ، ہمارا مادر پدر آزاد ہوتا معاشرہ ،
ہماری تعلیم و تربیت ، لبرل اور امیر لوگوں کا لائف سٹائل ،،فلم و ماڈلنگ انڈسٹری کی چکا چوند کرنے والی روشنیاں ،سوشل میڈیا پر بے حیائی کا طوفان ہماری بعض بے تکی روایات ،خاندانی پس منظر ، ہماری خود ساختہ رسومات ،،ہمارا بھانڈ میڈیا ،اور بےحیائی کو پرموٹ کرتا کلچر قندیل کے والدین ،ہمسائے عزیزو وار اقارب سب اس جرم میں برابر کے شریک ہیں اور ان سب پر رزق کے ذرائع بھی اپنا اثر ضرور دکھاتے ہیں اللہ اس کے گناہ صغیرہ کبیرہ معاف فرمائے اور اس کی مغفرت فرمائے آمین..
.جانے والا چلاگیا…اپنے انجام کو پہنچ گیا…..کیا یہ بہتر نہیں کہ ہمیں اپنے گریبان میں جهانکنا چاہئیے اور اپنے انجام پر نظر رکهنی چاہئیے….
ایسی ہر پوسٹ کو اگنور کیجئیے جس میں مرنے والے کی باتیں کهول کهول کر بیان کی جا رہی ہوں آج اگر ہم کسی کا عیب ڈهانپیں گے کل اللہ ہمارا پردہ میدان حشر میں رکهے گا….اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے گھریلو ماحول کو بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے اور اپنے بچوں کی تربیت اسلامی ماحول میں کرنے کی اشد ضرورت ہے ،،اسلامی معاشرہ ہی ہمیں چادر اور چار دیواری کا تحفظ دے سکتا ہے اگر ہم نے اس مار پدر آزاد میڈیا اور شوبز کے دلفریب اژدہا کو لگام نہ ڈالی تو عنقریب وہ وقت آنے والا ہے اللہ نہ کرے ایسا وقت آئے جب گھر گھر سے قندیل سامنے آئے اور ماں باپ بہن بھائیوں اور عزیزواقارب کی عزتوں کو پامال کرنے کے اس اندوہناک سفر پر نکلے جس میں آزاد میڈیا اور مار پدر آزاد لوگ اس کے ہم خیال بننے کے لیے ہمہ وقت دستیاب ہیں