(شہزاد حیدر گجر)لیڈروں کی پیداوار میں خود کفیل سیدن کی نگری ،،،ٹیکسوں کی بھرمار ،،،محکموں میں غیر ضروری افسران اور عملے کی فوج ظفر موج کروڑوں روپے کے پراپرٹی ٹیکس اور فیسوں کی ریکوری اور شہر کی مجموعی صورتحال صحت ،،، تحصیل ہیڈ کوارٹرہسپتال محکمہ مائینز کی بلڈنگ میں قائم،،،ڈاکٹروں کی عدم دستیابی ادویات کی عدم فراہمی ایکسرے فلموں کی عدم موجودگی ایمرجنسی ،،، ایمبولینسیں کے نیچے اینٹیں جوڑ کر کھڑی کر دی گئی ہیں جو ایک آدھ چالو ہے اس کے لیے پیٹرول ہی دستیاب نہیں ہے پینے کا صاف پانی کروڑوں روپے کا ریونیو اکٹھا ہونے کے باوجود اور اعلی قیادت کی جانب سے صاف پانی کی فراہمی کے لیے دئیے گے فنڈز کے باوجود عوام کٹاس کی ڈھن جہاں ہندو اشنان کرتے ہیں کا پانی پینے پر مجبور صفائی ستھرائی شہر کئ سڑکیں گلیاں اور نالیاں گندگی سے اٹی پڑی ہیں اور اگر صفائی والا عملہ یہ کچرا اٹھا بھی لے تو پھینکنے کے لیے کوئی مخصوص جگہ موجود نہیں ہے یہ کچرا گندھالہ باغ کے مین دروازے کے بائر ڈال دیا جاتا ہے امن و امان کی صورتحال آئے دن چور اچکوں کی سرگرمیاں عروج پر پولیس کی عدم دلچسپی اور اگر بالفرض کوئی مشکوک بندہ پولیس کے ہتھے چڑھ جائے تو مقامی سیاسی قائدین سفارش اور گلو خلاصی نیز مٹی پاو پالیسی کے لیے ہمہ وقت تیار لائبریری لائبریری کی عمارت موجود ہے لیکن کسی شمشان گھاٹ کا منظر پیش کر رہی ہے کتابیں اور فرنیچر کا نان ونشان تک موجود نہیں ہے تجاوزات مین بازار سمیت پورے شہر میں تجاوزات کی بھرمار راستوں گزرگاہوں او ر پلوں پر بھرپور اجارہ داری کے ساتھ راہگیروں کا گزرنا محال ،،سال دو سال بعد ہٹو بچو اور تجاوزات آپریشن کا لولی پاپ دے دیا جاتا ہے مین بازار نالہ اور سڑکیں شہر کے بیچوں بیچ سونے کی ندی بہہ رہی ہے فنڈز کی فراہمی کے باوجود تعمیراتی کام سست روی کا شکار ہے ،،،،کوئی پوچھ گچھ نہیں نیز تعمیراتی کمیٹی ساڈی کوئی نئیں سنڑدا والی پالیسی اپنائے ہوئے ہے کوئی بہتری نہیں ،،،مین روڈ سمیت تمام سڑکیں کھنڈرات کا نمونہ پیش کر رہی ہے سبز منڈی شہر کی اکلوتی سبز منڈی منڈی سے بڑھتی ہوئی ضروریات کے مطابق استفادہ حاصل کرنا انتہائی مشکل ہوتا جارہا ہے جگہ کی کمی اور آسان نقل و حرکت میں دشواری بڑھتی جا رہی ہے ٹهیہ بانوں کے مسائل شہر کے اندر ٹهیہ بانوں کے لیے جگہ کی فراہمی یا متبادل بندوبست ایک بہت بڑا ایشو ہے کیونکہ شہر کی اکثریتی آبادی کا انحصار اس تهڑہ بازار پر ہے لاری اڈہ و ذرائع آمدورفت شہر کا اکلوتا لاری اڈہ ٹرانسپورٹ کا اڈہ کم مچھلی منڈی زیادہ لگتا ہے بارش کے دنوں میں جوہڑ کا منظر پیش کرتا ہے اور کوئی شہری بھی اس اڈے میں داخل ہونے سے پہلے ہی پُرباش ہوجاتا ہے پارکنگ اس کے ساتھ شہر میں پارکنگ کا کوئی انتظام نہیں سارا شہر رکشہ ٹیکسی سٹینڈ بنا ہوا ہے جہاں جس کا جی آئے گاڑی کھڑی کر دے ملاوٹ شدہ اشیا کی خریدو فروخت ،،مضر صحت گوشت کی فروخت ،ذخیرہ اندوزی ناجائز منافع خوری کساد بازاری نیز بازار میں راستے تنگ کرنا اور ماوں بہنوں کے ساتھ بدتمیزی اور فقرے کسنا اس شہر کے باسیوں کے من پسند مشاغل ہیں اربابِ اختیار کے ساتھ ساتھ ہم عوام کو بهی اپنی اصلاح و احوال کرنے کی ضرورت ہے اور ان تمام مسائل کو حل کرنا کوئی مشکل کام نہیں اس کے لیے صرف مخلص پن ،تدبر، احساس زمہ داری ،جرات مندانہ اقدامات اور خدمت خلق کا جذبہ درکار ہے ارباب اختیار، تاجر حضرات اور عام عوام کو مل کر اس معاشرے کی بہتری میں کردار ادا کرنا ہوگا اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین