حجاج بن یوسف کے زمانے میں عربی بدووں کی بغاوتیں عروج پر تھیں ۔ایسےھی ایک قبیلے پر فتح حاصل کرنے کے بعد حجاج نے تمام لوگوں کو قتل کرنے کا حکم دیا -جلاد لوگوں کو قتل کر رھے تھے  جب ایک بدو بچ گیا تو نماز کا وقت ھو گیا ۔لہزا اس کو پسہ سالار قتیبہ بن مسلم  کے حوالے کر دیا گیا ،کہ کل اس کو دربار میں پیش کیا جاے۔ سپہ سالار اس کو گھر میں لے ایا تو اس نے قتیبہ بن مسلم سے کہا اگر تم میں کوئی خیر کا جزبہ ھے تو ایک بات کہوں ،، قتیبہ بن مسلم نے کہا ھاں بولو

اسس نے کہا میرے پاس لوگوں کی ا مانتیں ھیں اور کل حجاج نے مجھ کو قتل کر دینا ھے میں اپنے اور تمھارے درمیان  اللہ کو ضامن بناتا ھو کہ صبع تک واپس آ جاوں گا

قتیبہ بن مسلم فرماتے ھیں اس کی بہت منت سماجت کے بعد مجھ کو اس پر رحم آ گیا اور صبح انے کا وعدہ لیکر اس کو جانے دیا ۔اس کے جانے کے بعد مجھ کو پچھتاوا ھونے لگا اور طرح طرح کے خیالات گھیرنے لگے کبھی اس کے واپس نہ انے کا خیال اور کبھی حجاج کی سخت طبیعت ۔ پوری رات مسلسل مناجات اور دعاوں میں وقت گزرا صبح سے زرا پہلے دروازے پر دستک ھوئی دیکھا تو وہ شخص موجود تھا اس کو دیکھ کر جان میں جان ائی اس کو لیکر حجاج کے دربار میں حاضر ھو اور پورا واقع بیان کر دیا ۔حجاج کچھ دیر اس کی طرف دیکھتا رھا پھر بولا لے جاو اسکو میں نے تمھارے حوالے کیا تم جو چاھو اس کے ساتھ سلوک کرو

میں اسکو لیکر دربار سے باھر ایا اور اس سے کہا تم آزاد ھو جہاں چاھو جاو

یہ سن اس نے کہا

اللھم لک الحمد

(اے اللہ تمام تعریفیں تیرے لیے ھیں( اور تیر شکر ھے)

اور اللہ کی تعریفیں بیان کرتے ھو ے ایک طرف چل دیا

میں غصہ کی حالت میں اسکو دیکھتا رھا کہ میں نے اسکی جان بچائی ھے اور اسکو ازاد کردیا ھے ،یہ کیسا بے مروت شخص ھے کی شکریہ کا ایک لفظ تک نھیں بولا

اگلے دن پھر میرے پاس آیا اور بولا

بھائی تمھارا بہت شکریہ اس نیکی کا بدلہ میں نھیں دے سکتا اللہ تم کو اس کا بہت اچھا بدلہ دے ۔

کل میں اللہ کی حمدو ثنا  اور اسکا شکرادا کر رھا تھا تو میرے لیے ممکن نہ تھا کی میں اس میں تم کو شریک کروں

اللہ اکبر

یہ ھے توحید اور توحید خالص

جب ایک لمحہ کے لیے بھی اللہ کی توحید تعریف اسکی ربوبیت میں کسی کو شریک نھیں کیا جاسکتا

جب اللہ کی مرضی اور منشاء کے بغیر ایک پتا تک نھیں ھلتا تو پھر کسی تکلیف یا خوشی ملنے کا سباب کوئی اور کیسے ھو سکتا ھے تمام کے تما م ظاھری اور مخفی اسباب کا محرک اللہ کی مرضی ھے

جب زبان سے اللہ کے مسبب الاسباب اور مدبر الامر ھونے کا اقرار کرتے ھین تو توقعات کا مرکز ظاھری اسباب  کیوں

زرا سی خوشی  (جومیں اصل میں اللہ کی مرضی سے ھی )ملنے پر کسی غیر اللہ کو دستگیرغریب نواز داتا  کیوں

زرا سا غم ملنے پراللہ کی رحمت سے مایوس ھو در بدر کی ٹھوکریں کیوں

مَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ أَإِلَٰهٌ مَّعَ اللَّهِ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ 

کون ھے وہ جو مصیبت کے وقت دعاوں کو سنتا ھے اور تم کو زمیں پر خلیفہ بنایا ھے کیا ھے کوئی اللہ کے سوا کوئی اور بہت کم لوگ غور وفکر کرتے ھیں

ظفرنواز