تعلیم یافتہ ،،،،، تحریر محمد ارشد
کبھی کبھی مجھے چوآسیدن شاہ کے نوجوانوں کے درمیان بیٹھ کر ایسا لگتا ھے کہ ان شاہینوں کےبال و پر مرشد سیدن شیرازی کی بطخوں کے جیسے ھو گئے ہیں۔ اور اب یہ پرواز کے قابل نہیں رہے۔ کام کاج نہ کرنے کی وجوہات کے موضوع پر ایسی وزنی دلیلیں کہ خدا کی پناہ۔ میرے نزدیک اگر ایک اچھی خاصی تعلیمی اسناد رکھنے والا نوجوان دربدر ٹھوکریں کھاتا اور ڈگماتا نظر آتا ھے تو اسکا مطلب ہرگزیہ نہیں ھے کہ بے روزگاری زیادہ ھو گئی ھےبلکہ اسکا مطلب یہ ھے کہ شرح خواندگی زیادہ ھوگئی ھے۔ میں نے ایک ایسے ہی محترم دوست جن کی تعلیمی اسناد کا وزن اچھا خاصا ھے اور معاشی حالات کچھ زیادہ اچھے نہیں ہیں سے پوچھا کہ آپ کام کیوں نہیں کرتے تو جھٹ سے بولے یہ پاکستان ھے بھائی۔ کسی بھی جوابی جملہ بولنے کی سکت نہ ہونے کے باوجود میں نے کہا جی مجھے معلوم ھے یہ پاکستان ھے اور اسرائیل کے علاوہ دنیا بھرکے ممالک نے دل وجان سے تسلیم کر لیا ھے لیکن آپ کام کیوں نہیں کرتے فرمانے لگے یہاں نہ بجلی نہ پانی نہ گیس بہت مسائل ہیں جی۔ آپ نہیں سمجھیں گے۔ واقعی اس مرد قلندر کی بات حرف بحرف صحیح ثابت ھوئی اور میں آج تک نہیں سمجھج سکا۔
اگر چوآ سیدن شاہ کے چندلوگ ڈاکٹر اور انجئیر بن گئے ہیں تو وہ ان کی اپنی غلطیوں کا نتیجہ ھے اس میں ھمارے تعلیمی نظام کا کوئی قصور نہیں۔ ھماری آج کل کی تعلیم کے بل بوتے پر معاش اور روزگار کا حصول تو مشکل ھے ۔ لیکن شعبہ تعلیم ایک اچھا ذریعہ معاش ھے جس نے چند لوگوں کی پسلی سیدھی اور باقی سب کی پسلیاں توڑ دی ہیں۔
ظفر اقبال عرف بالا نائی سب لوگ جانتے ہیں کہ اس کے پاس کوئی ایسی تعلیمی سند نہیں ہے جس کے ھونے سے بندہ ذلیل و خوار ھوتا ھے۔ وہ خوش ھے اور اپنے کاروبار میں اتنا مصروف ھے کہ اس کی خدمات حاصل کرنے کے لئے پہلے وقت لینا پڑتا ھے ۔ اوریہ ہماری خوش قسمتی ھے کہ اس نے کسی تعلیمی ادارے کا رخ نہیں کیا ۔ ورنہ ھم ایک اچھے کاریگر اور وہ ایک اچھے روزگار سے محروم ھو جاتا اسکو نوکری اور روزگار کے حصول کے لئے سی وی بھیجنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ایک فون کال پر اسکو ہزاروں روپے کے آرڈرز مل جاتے ہیں اسکا 3310 کے جیسا نوکیا موبائل فون بڑے بڑے سیلز ایگزیکٹوز کے لیپ ٹاپ اور کمپیوٹرز پر بھاری ھے- ھمارےجدید تعلیمی سٹینڈرڈز کے مطابق یہ جاہل اور ان پڑھ آدمی ھے اور آج کے تعلیم یافتہ نوجوان اسے اوے کر کے بلاتےہیں۔
باہر کے ممالک میں تعلیم یافتہ لوگ اپنا طرز زندگی اسطرح بنا لیتے ہیں کہ کم پڑھے لکھے لوگ ان سے متاثر ھو کر ان سے بڑی کامیابیوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ لیکن ھمارے ہاں تعلیم یافتہ لوگوں کا اپنا ہی انداز ھوتا ھے ڈاکٹروں سے معزرت کے ساتھ جو نخرہ اس طبقے کے ھاں پایا جاتا ھے وہ یورپ میں ناچنے والیوں سے مطابقت رکھتاھے۔ وہ ان سے قدرے بہتر اسلئے ھوتی ہیں کہ سب کو ہیلو ھائے کرتی نظر آتی ہیں لیکن ھمارے ڈاکٹر صاحبان انتظار میں بیٹھے مریضوں کے درمیان سے سلام دعا کے بغیر ماتھے پر بل اور ناک کو اوپر کی طرف کھنچتے ھوئے اس قدر برق رفتاری کے ساتھ گزر کر کلینک میں گھس جاتے ہیں کہ ساری تعلیم، انسانیت اور مسیحائی پیچھے رہ جاتی ھے اور ڈاکٹر صاحب بہت آگے چلے جاتے ہیں۔