ایک غازی ناموس رسالت کی زیارت
تحریر،،محمد طاہر عبدالرزاق،،،،،،ترتیب جدید،،ابو بلال حیدر
صاحب تحریر محمد طا ہر عبدالرزاق جو کہ تحریک تحفظ ختم نبوت سے و ابستہ ہیں کافی عرصہ پہلے اپنے دوستوں کے ہمراہ غازی ناموس رسالت غازی محمد آمین سے ملنے اور ایمان افروز داستان سننے کے لیے ضلع چکوال کی تحصیل چوآ سیدن شاہ کی ایک خوبصورت وادی جھنگڑ کے گاوں،،آڑہ گجراں،، پہنچے تھے،،جہاں وہ چوہدری میر افضل کے مہمان بنے تھے۔۔یہ تحریر کافی پرانی ہے اور کتابی شکل میں موجود ہے جس کو کالم کی شکل دی گئی ہے،،اللہ تعالی یہ کاوش قبول فرمائے آمین
یہ روداد غازی ناموس رسالت کے اپنے لفظوں میں سنتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔با با جی غازی محمد امین نے اپنی روداد یوں شروع کی
یہ 1946 کی بات ہے کہ ہمارے گاوں سے دو میل کے فاصلے پر ایک گاوں پیر پتکھ تھا وہاں ایک بدطنیت ہندو رام داس رہتا تھا،رام داس خاصا امیر تھا،ہندو برادری اسے اپنا وڈیرا مانتی تھے،وہ مسلمانوں کو سود پر پیسے دیتا تھا،اگر سود کی رقم میں دیر ہو جاتی تو وہ مجبور مسلمانوں کو ذلیل و رسوا کرتا اور انہیں غلیظ گالیاں بکتا،کبھی کبھی رام داس شراب کے نشے میں دھت رقم وصولی کے لیے آتا تو سود کی رقم نہ ملنے پر وہ مسلمانوں کی لڑکیاں اپنے ڈیرے پر لے جاتا
رام داس کا ظلم اس وقت نقطہ عروج پر پہنچا جب اس نے اپنے کتوں اور کتیوں کے نام (نعوذ باللہ)اہل بیت اطہار کے ناموں پر رکھ دیے۔وہ اپنے جانوروں کو سر عام ان ناموں سے پکارتا
بابا جی کہنے لگے 1946 میں میرے چچا چوہدری اللہ دتہ صاحب کا انتقال ہوگیا،گاوں کے قبرستان میں نمازہ جنازہ کی اداہیگی کے بعد علاقہ کے غیرت مند عالم دین مولانا محمد دین نے گاوں کے مسلمانوں کے سامنے رام داس کی ساری دلسوز داستان سنائیٓ اور مسلمانوں کی دینی حمیت کو بیدار کرتے ہوئے کڑک لہجے میں کہا کہ اسے واصل جنہم کرنا ہمارا فرض ہے
کون خوش قسمت ہے جو یہ فرض ادا کر کے غازی یا شہید ہونے کا اعزاز حاصل کرے
میں اور میرے چچا زاد بھائی چوہدری محمد اعظم جن کے والد اللہ دتہ مرحوم کے جنازے کے موقع پر مولوٰی صاحب نے رام داس کے بکواسات کے متعلق بیان کیا تھا ہم دونوں بھائیوں نے رام داس کو قتل کرنے کا پروگرام تشکیل دیا،فوتیدگی کے مہمانوں سے فراغت کے بعد ہم اپنے نبی کی ناموس کے تحفظ کے عظیم مشن پر روانہ ہوئے ہم دونوں نے کلہاڑیاں لیں اور پیر پتکھ کی جانب پیدل چل پڑے،دل دھک دھک کر کے عشق رسول کا ساز بجا رہاتھا اور جہادی قدم تیزی سے فاصلوں کو سمیٹ رہے تھے۔ابھی آدھا راستہ طے کیاتھاکہ راستے میں ایک بوڑھے شخص چوہدری لال خان مرحوم ملے۔ہم نے ان کو سلام کیا لیکن انہوں نے کوئی جواب نہ دیا ہمارے استفسار پر انہوں نے کہا کہ میں نے تمھارے سلام کا جواب اس لیے نہیں دیا کہ تمھارے علاقے میں کوئی مسلمان نہیں رہتا جو گستاخ رسول رام داس کو قتل کرسکے،میں بوڑھا ہونے کے باوجود اسے قتل کرنے کے لیے چکوال سے آیا ہوں۔ہم نے لال خان مرحوم سے کہا کہ آپ سکون سے واپس گھر چلے جائیں،انشااللہ بہت جلد آپ خوشخبری سنیں گے۔انہیں رخصت کرکے ہم رام داس کے گھر کی طرف روانہ ہوئے جلد ہی ہم رام داس کے گھر کے دروازے کے باہر کھڑے تھے،ہم نے رام داس کو آواز دی،جس کے جواب میں اس کے کتے اور کتیاں بھونکتے ہوئے ہماری جانب لپکے۔ہم نے سامنے بیٹھے رام داس کو آواز دے کر کہا کہ ان کتوں کو روکو ہم تم سے ایک ضروری کام کے سلسلے میں ملنے آئے ہیں،رام داس نے ہمارے سامنے ان غلیظ جانوروں کو اسلام کی پاکیزہ ہستیوں کے نام سے پکار کر واپس بلا یا ،جس پر ہمیں تصدیق ہوگئی اور ہمارے دل میں آتش انتقام کا لاوہ پھٹ پڑا۔ہم بڑی سرعت کے ساتھ چلتے ہوئے رام داس کے قریب پہنچے اور للکار کر کہا،اے گستاخ رسول۔دیکھ رسول کے غلام تجھے واصل فی النار کرنے کے لیے آگئے ہیں۔ہماری للکار سن کرقد آور جسم اور تنومند رام داس حقہ پیتے ہوئے اٹھا اور فوری طور پر حقے کو ہتھیار بناتے ہوئے ہمارے سامنے آن کھڑاہوا کہاں طاقتور اور بھاری بھر کم رام داس اور کہاں میں سولہ سال کا دبلا پتلا لڑکا۔لیکن عشق رسول نے مجھے بے خوف اور دلیر کر رکھاتھا۔میں آگے بڑھا اور نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے رام داس کے سرپر پوری قوت سے کلہاڑی کا وار کیا،کلہاڑی رام داس کے سر کے اوپر والے حصے میں لگی اور اوپر کا نصف سر کاٹ کے رکھ دیا لیکن ہوا یوں کہ میری کلہاڑی رام داس کے سر میں پھنس گئی۔میں نے کلہاڑی نکالنے کی بہت کوشش کی لیکن کلہاڑی سر میں پھنسی رہی اسی دوران رام داس دوبارہ اٹھ کر کھڑا ہونے ہی لگا تھا کہ محمد اعظم نے انتہائی پھرتی کے ساتھ اپنی کلہاڑی میری کلہاڑی کے اوپر ماری اور کلہاڑی سر سے باہر نکل آئی میں نے پوزیشن سنبھالتے ہوئے انتہائی بھرپور وار کیا جس سے رام داس کے سر کا آدھا حصہ کٹ کر علحیدہ ہوگیا اور رام داس سر کچلے سانپ کی طرح موت کا رقص کرنے لگا اتنے میں اس کی بیوی ایک بہت بڑا گنڈاسا لیکر میری طرف لپکی،لیکن مستعد کھڑے میرے بھائی نے کلہاڑی کا ایک ہی وار کرکے اس کا سر تن سے جدا کر دیا،قریب ہی ان کے بچے کھڑے تھے ہم نے انہیں بے گناہ سمجھ کر معاف کر دیا اور ان کے گھر کی چھت پر چڑھ گئے اور پوری قوت سے نعرے لگانے لگ پڑے،یہ سارا منظر دیکھ کر مسلمانوں اور ہندووں کا ایک بڑا ہجوم اکٹھا ہوگیا ہم نے اعلان کیا کہ سب سن لو اس گستاخ رسول کو ہم نے قتل کیا ہے اس لیے کسی بے گناہ کو اس میں ملوث نہ کیا جائے
یہ سنتے ہی مسلمانوں کا ہجوم بھی نعرے لگانے لگ پڑا اور ہندو وہاں سے بھاگ گئے
کافی دیر کے بعد پولیس پہنچ گئی،چوآسیدن شاہ کے مسلمان ایس ایچ او چوہدری حسن خان نے ہمیں گرفتار کیا اورشاتمان رسول کی نعشیں پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دی گئیں۔ہم گرفتار ہوکر پیدل بازار سے گزر رہے تھے،جب کسی ہندو کی دوکان آتی تو ہم دونوں بھائی دوکان کے سامنے کھڑے ہوکر نعرے لگاتے،ہندو کثیر تعداد میں ہونے کے باوجود دوکان چھوڑ کر بھاگ جاتے،ہم انہیں للکارتے تو وہ پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھتے،ہمیں چوآسیدن شاہ کی حوالات میں بند کر دیا گیا،ایس ایچ او چوہدری حسن خان کا رویہ ہمارے ساتھ بہت احسن رہا۔ہمیں پیشی کے لیے عدالت لے جایا گیا،ہم نے عدالت میں جاتے ہی۔اللہ و رسول اور اسلام کے کڑکتے نعرے لگائے۔جج ہماری جرات پر پریشان ہو گیا۔میں نے جج کو مخاطب کر کے کہا ہم عدالت میں مقدمہ لڑنے کے لیے نہیں آئے۔ہمیں فورا سزا ئے موت دی جائے۔ہم اپنے آقا کے حضور حاضر ہونا چاہتے ہیں۔ہم دونوں بھائیوں نے ڈنکے کی چوٹ پر اپنے فعل کا اقرار کیا۔مجھے نابالغ قرار دے کر بری کر دیاگیا،جبکہ محمد اعظم کو سزائے موت سنا دی گئی۔18اگست 1947چوہدری محمد اعظم کی سزائے موت کا دن مقرر ہوا
جیل میں مجاہد ناموس رسالت کی خوشیاں دیکھنے کے قابل تھیں۔ہنستا مسکراتا چہرہ چاند کو شرماتا،شوق جنت اور دربار رسالت میں حاضری نے ان پر وجد و کیف طاری کردیا،پروانہ شمع رسالت چوہدری محمد اعظم اپنے سفر آخرت کی تیاریوں میں مصروف تھے کہ 14اگست 1947کو پاکستان معرض وجود میں آگیا اور ہمارا علاقہ پاکستان میں شامل ہوگیا،حکومت پاکستان نے سزائے موت کے قیدیوں کی سزاکو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔اور پھر لمبی سزاوں کو معاف کرکے مختصر قید میں تبدیل کر دیا۔اور یوں چوہدری محمد اعظم جیل سے رہا ہوگئے۔جب عاشق رسول اپنے علاقے میں پہنچا تو لوگوں نے شاہ دو عالم کے محب کا والہانہ استقبال کر کے عشق رسول کا ایک درخشاں باب رقم کیا
قید کے دوران آپ کو کسی ہستی کی زیارت بھی ہوئی؟؟
میں نے بابا جی سے سوال کیا،،،بابا جی یوں گویا ہوئے،جب میں جیل کی کال کوٹھڑی میں بند تھا۔ایک رات خواب میں دیکھتا ہوں،ایک عزت ماب خاتون جو کہ پردے میں ملبوس ہیں ایک مکان سے نکل کر مجھ سے کافی فاصلے پر کھڑی ہیں،مجھ سے مخاطب ہوکر کہتی ہیں مرحبا مرحبا،اور اس کے ساتھ ہی وہ خاتون مقدسہ مجھے میری اور میرے بھائی کی رہائی کی خوشخبری سناتی ہیں۔جو سارے زمانے کے سامنے پوری ہوتی ہے۔میرا دل پکار اٹھا کہ یہ خاتون۔خاتون جنت سیدہ فاطمہ الزہرہ ہیں،کیونکہ اس بدطنیت ہندو نے اپنے ایک غلیظ جانور کا نام آپ کے محترم نام پر رکھا ہوا تھا،چوہدری محمد اعظم اپنی خوش وخرم زندگی گزار کر ۶۹۹۱ میں انتقال فرما گئے وہ اپنے گاوں کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں،عشق رسول سے آراستہ یہ غیرت مند شیر اپنے قبیلے اور امت مسلمہ کے لیے ایک قابل فخر اور قابل تقلید شخصیت تھیں،ہیں اور رہیں گی۔بقول شاعر
راز جنہاں نے کھلنڑاں ہووئے کھل ویندن ہر دور اچ۔۔۔غازی علم دین ہووے،مرید حسین محمد ا عظم ہو یا امین یا عامر چیمہ نبی دی عزت تے کسنڑ آلے مل ویندن ہر دور اچ