فوجی فاؤنڈیشن میڈیکل ڈسپنسری
تحصیل چوآ سیدن شاہ
تحریر : منیر احمد
فوجی فاؤنڈیشن ریٹایرڈ فوجیوں اور ان کی فیملیز کی فلاح و بہبود کا ایک بہت ہی اھم ادارہ ہے ۔ اس ادارے کے زیر انتظام پورے پاکستان میں اسکولوں ہسپتالوں خواتین کے لیے دستکاری کے اداروں اور صنعت و حرفت کے بےشمار یونٹ کام کر رھے ہیں جن میں رٹائرڈ فوجیوں اور ان کی فیملیز اور بچوں کو میڈیکل کی مفت سہولت اور تعلیم و تربیت دی جاتی ہے
بہت عرصہ پہلے چوآ سیدن شاہ میں فوجی فونڈیشن کی طرف سے خواتین کے لیے ایک دستکاری اسکول کھولا گیا تھا جس میں چوآ سٹی اور مضآفات سے بہت سی بچیوں نے داخلہ لیا تھا لیکن ابھی ان کا کورس مکمل بھی نہیں ہوا تھا کہ اس اسکول کو بوچھال منتقل کر دیا گیا ۔چوآ کے لوگوں کو اس اھم ترین فلاحی ادارے سے محروم کر دیا گیا ۔ خیر جو ہوا سو ہوا لیکن آج میں فوجی ڈسپنسری کی بات کرنا چاہتا ہوں
فوجی فاؤنڈیشن کی فری ڈسپنسریاں اب تحصیل لیول تک کام کر رہی ہیں جن میں ایک رٹائرڈ فوجی ڈاکٹر کی سہولت میسر ھوتی ہے جن سے رٹائرڈ فوجیوں اور ان کی فیملیز کو مفت علاج معالجے کی سہولت فراہم کی جاتی ہے ۔
تحصیل چوآ سیدن شاہ کی فوجی فونڈیشن ڈسپنسری اس وقت دلمیال میں کام کر رہی ہے ۔ اس ڈسپنسری کی لوکیشن مضحکہ خیز حد تک ناانصافی پر مبنی ہے ۔ میں یہاں آپ کے سامنے ایک تجزیہ پیش کرتا ھوں جس سے آپ کو ناانصافی کا اندازہ هو گا
کسی فوجی کی بیوه یا اس کے یتیم بچے یا کسی شہید فوجی کی فیملی آڑہ بشارت سلوی کسک وٹلی یا ڈنڈوٹ میں رہتی ہے تو پہلے وہ 50 یا 60 روپے فی سواری کرایہ دے کر چوآ پونچیں گے پھر چوآ سے 30 روپے فی سواری کرایہ دے کر دلمیال پونچیں گے۔ پھر اسی طرح دھکے کھاتے ھوے شام تک گھر واپسی هو گی ۔
آخر ایسی ڈسپنسری کا فائدہ ہی کیا ہے جس سے پوری تحصیل کے صرف دو گاؤں فائدہ اٹھا سکتے ھوں ۔
انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ اس ڈسپنسری کو چوآ سیدن شاہ میں منتقل کیا جائے تا کہ پوری تحصیل کے لوگ اس ڈسپنسری سے استفاده کر سکیں ۔