،،*******احساسِ ذمہ داری ********
تحریر ،،،،،شہزاد حیدر گُجر
توکل کا یہ مطلب ہے کہ خنجر تیز رکھ اپنا
انجام اس کی تیزی کا مقدر کے حوالے کر
چوآ فرنٹ گروپ جو کہ ایک فلاحی و آگاہی مشن ہےاس گروپ کی (مجلس عاملہ متحدہ عرب امارات)کی جانب سے ایک لائحہ عمل کی تحریر نظروں سے گزری جس کو پڑھ کر دل باغ باغ ہوگیا اور خوشی ہوئی کہ اس شہر کے نوجوان وطن کی مٹی سے محبت اور مخلصی نیز درد دل کی دولت میں کتنے امیر ہیں
چوآ فرنٹ گروپ کی اس تحریر میں ایک مکمل لائحہ عمل کا اعلان کیا گیا ہے کہ شہر کے اجتماعی مسائل کے لیے
جوانوں کی جانب سے بھرپور تعاون پیش کرتے ہوئے مقامی سیاسی و سماجی شخصیات مقتدر حضرات
صحافی بھائیوں اور دیگر معاشرے کے اہم اور قابل زکر افراد کو ایک جگہ بلا کر ان سے درخواست بھی کی جائے زمہ داران کو ان کی زمہ داری کی یاددہانی اور احساس بھی کرایا جائے اور سول سوسائٹی کو بھی متحرک کیا جائے
کہ آگے بڑھ کر متعلقہ محکموں کے تعاون سے اس شہر کو صحت ،صفائی ،پینے کا پانی ودیگر گھمبیر مسائل سے نکالنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس شہر کے لوگوں کو بنیادی حقوق کی فراہمی یقینی بناتے ہیں چوآ فرنٹ گروپ متحدہ عرب امارات کی مجلس عاملہ کی جانب سے اعلان کیے گئے لائحہ عمل اور تمام تجاویز سے مکمل اتفاق کرتا ہوں اور یہی واحد راستہ ہے ان تمام مسائل کے حل کا
کہ آگے بڑھیں اور کوشش کر کے اس شہر کی تقدیر بدل ڈالیں
اس شہر میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے اور نہ ہی مخلص اور درد دل رکھنے والے افراد کی کوئی کمی ہے
مقتدر سیاسی شخصیات بھی ہمارے اپنے ہیں ان کو بتدریج قائل کریں آمادہ کریں اور آگر کسی جگہ ضرورت پڑے تو اخلاقی پریشر ڈالتے ہوئے ان کو مجبور کیا جائے
اور میں
یقین رکھتا ہوں کہ مقتدر شخصیات اپنی زمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے اور بدلتے ہوئے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے روایتی طریقوں سے ہٹ کر حقیقی معنوں میں عوام کی خدمت کرتے ہوئے نظر آئیں گے
یہاں صرف کمی ہے تو احساس ذمہ داری کی
مجھ سمیت ہر بندہ سانُوں کی والی پالیسی اپنا کر حالات سے نظریں چرائے ہوئے ہے اور صرف کچھ نہیں ہوگا کچھ نہیں ہوسکتا کوئی تبدیلی نہیں آسکتی کا راگ آلاپ کر دل کو تسلی دئیے ہوئے ہیں یقین مانو کوئی کام ناممکن نہیں ہے
اور ہمارا یہ رویہ اپنی آنے والی نسلوں کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے ہمیں اپنے لیے اور اپنی آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے متحرک ہونا پڑے گا
خدا راہ اس راستے پر نکلیں اور مل جل کر اپنے معاشرے اور ماحول کو بتدریج بہتری کی طرف لے جائیں اور اگر کوئی اس مشن میں روڑے اٹکائے اس کو بھی قائل کرنے کی کوشش کریں
لوگوں کے بارے میں حسن ظن رکھیں
یہ مت سوچیں اور دیکھیں کون کیا کہہ رہا ہے
صرف اس بات پر دھیان دیں کہ کیا کہنے والا بات صیح کہہ رہا ہے اور ضمیر سے فیصلہ لیتے ہوئے ہر حق بات کی تائید اور ترویج کرنا شروع کردیں بہتری خود بخود آ جائے گی
ایشوز پر بات کرنا ہر انسان کے بس کی بات نہیں ہے یہ احساس کی دولت ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتی
آگے بڑھیں اپنے قیمتی وقت اور کاروبار یا دیگر زمہ داریوں سے ٹائم نکالیں
تمام مسائل پر سینہ تان کر کھڑے ہو جائیں
اپنی آنے والی نسلوں کے ساتھ مخلص پن کا مظاہرہ کریں اور اس معاشرے میں موجود خرابیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں
اللہ تعالی آپ سب کا حامی و ناصر ہو
آمین ثم آمین
(اندھیروں کا گلہ کرنےسے کچھ نہیں ہوگا
اپنے حصے کی شمع خود جلانی ہوگی )