تحصیل ہیڈ کواٹراور مائن لیبر ویلفیئر ہسپتال چوآ سیدن شاہ کے متعلق چند حقائق

1۔ تحصیل، ہیڈ کواٹر ہسپتال چوآ سیدن شاہ سرکاری طور پر 40 بیڈڈ منظور شدہ ہسپتال ہے اور کیٹگری C کے تحت یہ چلایا جا رہا ہے۔

2۔ مائن لیبر ویلفئر ہسپتال 20 بیڈڈ ہسپتال ہے، 

3۔ تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال کا ٹوٹل رقبہ 81 کنال ہے جبکہ مائن لیبر ویلفئر ہسپتال کا ٹوٹل رقبہ 51 کنال ہے۔ 

4۔ مائن لیبر ویلفیئر کی جگہ بھی چوآ سیدن شاہ کے مقامی لوگوں کی ملکیتی جگہ ہے۔ 

تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال کو مصطفی آباد سے مائن لیبر ویلفئیر ہسپتال چوآ سیدن شاہ کی موجودہ بلڈنگ میں 2002 میں سردار غلام عباس صاحب کی ذاتی کوششوں کی وجہ سے منتقل کیا گیا تھا۔ 

5۔ہسپتال کو منتقلکرنے کی سب سے بڑی وجہ مصطفی اآباد میں بنیادی انسانی ضروریات اور کسی بھی حوالے سے ہسپتال کے متعلقہ ضروریات جیسے میڈیکل سٹورز، جنرل سٹورز اور ہوٹلز وغیرہ کا نہ ہونا تھا۔ جبکہ 14 سال گزرنے کے باوجود یہ حالات آج بھی ایسے ہی ہیں ۔ 

6۔ سب سے بڑی وجہ ٹرانسپورٹ تھی ، جو کہ آج بھی تقریباََ ویسی کی ویسے ہی ہے۔ 

7۔ زمینی حقائق پر نظر دوڑائیں تو چوآ سیدن شاہ کو رتوچھہ، منہالہ، چھمبی اور سرائیں چوک کے گردو نواح تک پیدل اپروچ ہے، جبکہ چوآ سیدن شاہ کی سب سے دور آبادی بھی آڑہ ہے جو کہ 40 کلومیٹر دور ہے، جبکہ مصطفی آباد سے تحصیل کا آخری گاؤں دلیل پور ہے جو کہ بمشکل 10 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ 

8۔جبکہ 2002 میں مصطفی آباد میں تحصیل ہڈ کواٹر ہسپتال کی روزانہ کہ OPD بمشکل 80 تا 110 تک ہوتی تھی ، جو کہ چوآ سیدن شاہ منتقلی کے بعد 350 تا 375 روزانہ کی بنیاد تک جا پہنچی تھی جو کہ فی الوقت بھی برقرار ہے، اور ریکارڈ پر پے۔ 

9۔ جبکہ مائن لیبر ویلفئر کی موجودہ OPD بمشکل 20 تا 25 مریضوں پر مشتمل ہے، جس کو شک ہو وہ جا کر ریکارڈ چیک کر سکتا ہے۔ 2002 سے مائن لیبر ویلفئیر ہسپتال کے تمام مریضوں کو بھی تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال کا عملہ ہے ڈیل کر رہا ہے، مائن لیبر کا کوئی بھی ڈاکٹر 2 بجے کے بعد ڈیوٹی نہیں کرتا ۔ جبکہ تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال کی پرچہی جس مریض نے بنوا لی ، اسکا علاج کرنا تھصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال کے فرائض میں شامل ہے۔ چاہے وہ مائن کا ملازم ہی کیوں نہ ہو۔ 

8۔ موجودہ مائن لیبر ویلفئر ہسپتال کی بلڈنگ میں محکمہ مائن کے 3 ڈیپارٹمنٹ کام کر رہے ہیں، جن میں نمبر 1، AC مائنز لیبر ویلفیئر نمبر2، ریسکیو مائن لیبر ویلفئر، اور نمبر 3 مائن لیبر ویلفئر ہسپتال ہے، اگر ان تینوں اداروں کو کٹاس شفٹ کیا جائے تو تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال با آسانی اپنی طبی سہولیات کو عوام کے لئے مہا کر سکتا ہے۔ 

10۔ ان سب حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے ماضی میں وزیر اعلیٰ کی طرف سے سپیشل بھیجے گئے سیکرٹری کے وزٹ کے بعد ان کے واضح احکامات کے باوجود بھی مقامی سیاسی رہنماؤں کی نااہلی کی وجہ سے مائن ہسپتال کو کٹاس شفٹ نہ کیا جا سکا، 

10۔ یہ سارے حقائق روز روشن کی واضح ہین ،